ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پاکستان کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے:جنرل راحیل شریف

پاکستان کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے:جنرل راحیل شریف

Tue, 20 Sep 2016 16:08:47    S.O. News Service

اسلام آباد، 20؍ستمبر (ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستان آرمی کسی بھی بلاواسطہ یا بالواسطہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔وہ سوموار کے روز جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو)راول پنڈی میں کور کمانڈرز کی کانفرنس کی صدارت کررہے تھے۔کانفرنس میں ہندوستان کی جانب سے پاکستان مخالف حالیہ بیانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ آرمی خطے میں ہونے والی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور وہ اس کے قومی سلامتی پر مرتب ہونے والے اثرات سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنی پُرعزم قوم کے ساتھ کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور وہ مستقبل میں ملک کی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف کسی بھی مذموم سازش کو ناکام بنا دیں گی۔جنرل راحیل شریف نے پاک آرمی کی جنگی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔کانفرنس میں سلامتی کی اندرونی اور بیرونی صورت حال اور مسلح افواج کی جنگی تیاریوں کا مکمل تفصیل اور گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ، وزیراعظم نریندر مودی اور دوسرے لیڈران نے پاکستان کے خلاف سخت بیانات جاری کیے ہیں۔اس تناظر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان ٹکراؤ کے آثار ہیں ۔پاکستان نے عالمی لیڈروں کے اس سالانہ اجتماع کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی سکیورٹی فورسز کی چیرہ دستیوں اور احتجاج کرنے والے کشمیریوں کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے کا فیصلہ ہے جبکہ ہندوستان پاکستان کے صوبے بلوچستان میں محدود پیمانے پر جاری مسلح علاحدگی پسندی کی تحریک کو اجاگر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ہندوستان بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جلاوطن کارکنان کے پاکستان مخالف مظاہرے کی بھی حمایت کررہا ہے اور اس کی پشت پناہی سے بلوچ علاحدگی پسند وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے موقع پر اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر ایک مظاہرہ کریں گے۔پاکستان اور ہندوستان اپنے اپنے مؤقف کے حق میں امریکہ کی حمایت کے لیے بھی کوشاں رہے ہیں۔تاہم اس نے بظاہر غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکہ ماضی میں دونوں ملکوں پر مسئلہ کشمیر سمیت دوطرفہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زوردیتا رہا ہے اور وہ تنازعہ کشمیر کے کسی تصفیے کے لیے ہندوستان پر دباؤ ڈالنے سے گریزاں رہا ہے۔


Share: